آن لائن دھوکوں اور جھوٹے وعدوں نے میرے دل پر اتنے نشان چھوڑے ہیں کہ جب بھی آن لائن خریداری کا خیال آتا ہے تو ایک انجانا سا خوف ساتھ ہولے سے کان میں کہتا ہے: “مت کرنا… پھر دھوکا ہوجائے گا۔”
لیکن دل بھی عجیب شے ہے، مانتا ہی نہیں۔
اسی ضد اور بیتابی نے مجھے ایک بار پھر آن لائن خریداری کے راستے پر دھکیل دیا۔
ایک جوتا پسند آیا۔ کئی بار آرڈر فارم بھرا… لیکن ہر بار انگلی Place Order کے بٹن پر جا کر رک گئی۔ جیسے ماضی کے زخم پوچھ رہے ہوں: “پھر وہی غلطی کرو گے؟”
مگر خواہش کبھی کبھار عقل کو شکست دے دیتی ہے۔ اور آخرکار میں نے جوتا آرڈر کر ہی دیا۔
پھر عجیب سی داستان شروع ہوئی۔
اگلے دن ایک خوشگوار لہجے میں کال آئی:
"سر، آپ نے جوتا آرڈر کیا تھا… کنفرم؟"
میں نے ہاں کہا تو بتایا گیا کہ 3 سے 5 دن میں پہنچ جائے گا۔
لیکن اگلے ہی دن کورئیر کمپنی کا واٹس ایپ میسج… رائیڈر کا نام، نمبر، آرڈر کی تفصیل—سب کچھ واضح۔
اور پھر چند ہی گھنٹوں بعد رائیڈر مسکراتا ہوا دروازے پر۔
میں نے جھجک کر پوچھا:
“بھائی، پارسل کھول کر چیک کرسکتا ہوں؟”
وہ ہنسا اور بولا: “ضرور سر، کیوں نہیں؟”
جوتا دیکھا، پسند آیا، پیسے ادا کیے۔
لیکن رات کو جب پہنا تو احساس ہوا… منگوایا گیا سائز چھوٹا ہے۔
دل پھر ڈوب سا گیا۔
کمپنی کے نمائندے سے رابطہ کیا تو اس کی نرمی نے مجھے حیران کردیا۔
نہ کوئی بحث، نہ کوئی بہانہ…
بس اتنا کہا:
"سر، آپ پریشان نہ ہوں۔ جس سائز کا جوتا آپ کہیں گے پہنچا دیں گے، اور رائیڈر پرانا واپس لے جائے گا۔"
دو دن بعد نیا جوتا آ گیا۔
لیکن… یہ بھی چھوٹا۔
اب میں واقعی تھک گیا تھا۔ مگر جب دوبارہ نمائندے سے بات کی تو وہ اس بار پہلے سے بھی زیادہ شرمندہ انداز میں بولا:
"سر غلطی ہماری ہے… اس بار مطلوبہ سائز کا جوتا بھیج رہے ہیں، بغیر کسی چارجز کے۔"
تین دن بعد جب بالکل صحیح سائز کا جوتا ملا اور رائیڈر پچھلا لے گیا بغیر کسی ڈلیوری چارجز کے تو دل میں برسوں بعد پہلی بار ایک عجیب سا اعتماد جاگا۔
شاید ہر چیز دھوکا نہیں ہوتی… شاید ہر آن لائن خریداری فریب نہیں۔
اسی آنے—جانے—بدلنے کی کہانی پر کورئیر کمپنی کی خصوصی کال بھی مل گئی۔ وہ بھی حیران تھے، لیکن ساتھ ساتھ مطمئن بھی کہ سب کچھ صاف اور شفاف ہوا۔
میری اس لمبی داستان کا مقصد صرف اتنا ہے کہ ہم جیسے لاتعداد لوگ آن لائن دھوکوں کے ڈر سے خریداری چھوڑ بیٹھے ہیں۔ مگر ZUFIT اور PostEx جیسی کمپنیاں آج بھی اپنے کام کو ایمان داری اور ذمہ داری کا فریضہ سمجھ کر کرتی ہیں۔
اور شاید انہی کی وجہ سے ابھی تک دل میں تھوڑی بہت امید باقی ہے۔